دو رنگی

 

دو رنگی

دنیا کی بود و باش میں ہمارا سامنا ایسے لوگوں سے بھی ہوتا ہے جو منہ میں رام رام بغل میں چھری کا مصداق ہوتے ہیں، آمنے سامنے ان کی باتیں بڑی شیرین ہوتی ہے، مٹھاس کے نئے نئے ذائقے دیکھنے کو ملتے ہیں، بندہ سوچتا ہے کہ یہ بولتا رہے اور میں سنتا رہوں، ان شیرین مزاج لوگوں کا ایک دوسرا رخ ہماری نظروں سے اوجھل ہوتا ہے، جس سے ہم بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں، ہمیں لگتا ہے کہ ہم یک جان ہیں، ہمارا ایک دوسرے کے بغیر گزارہ مشکل ہے، کسی بھی چیلنج کو ہم اکیلے بالکل بھی عبور نہیں کرسکیں گے جب تک کہ ہمارے دوست اس کوشش میں شامل نہ ہو۔ لیکن! یقین جانیے جس طرح ہم ان لوگوں پر اعتماد کرتے ہیں اسی اعتماد کے نتیجے میں ہم اپنے لیے دکھ درد پال رہے ہوتے ہیں اور ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی، جہاں بھی ان کا دوسرا چہرہ عیاں ہوتا ہے وہی پر ہمارے خوابوں کے محل زمین بوس ہو جاتے ہیں، یہ ایسا مرحلہ ہوتا ہے کہ ہم دوستی کی وجہ سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے اور اپنے جذبات کو اندر ہی اندر دبانے کی وجہ سے روز مرتے ہیں، دل سے بہتے ان آنسو کا نہ کوئی مداوا ہوتا ہے اور نہ کوئی پوچھنے والا ، ہر لمحہ ایک ہی خیال ستاتا ہے کہ کاش! میں اعتبار ہی نہ کرتا ، کاش! میں اسے ہم راز ہی نہ رکھتا، کاش! میرے اندر سے یہ احساس ختم ہو جائے کہ لوگوں کے رویے میرے لیے وبالِ جان نہ بن سکے، لیکن!!! بس ایک ہی چیز ہمارے لیے مسیحا بن کے سامنے آتی ہے کہ نہیں، دنیا جو بھی کریں کرنے دیں، لوگوں کا رویے کیا ہے بھول جاؤ، سوچنے کی بات یہ ہے کہ تمارا رد عمل کیا ہے؟ کیا تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر صبر سے کام لیتے ہو یا شیطان کے جھال میں پھنس کر خود کو پریشانی میں مبتلا کرتے ہو، خیالات کے بہاؤ کے ساتھ بہتے چلے جارہے ہو یا اللہ تعالیٰ کو اپنا سب کچھ سونپ کر ہلکان ہونا چاہتے ہو۔۔۔سوچ کے زاویے سے ہی ہماری زندگی بدل سکتی ہے ورنہ ہر رویہ آپ کو جان سے مار دے گا۔ 


#محمد_فارانی

تبصرے