اشاعتیں

دو رنگی

تصویر
  دو رنگی دنیا کی بود و باش میں ہمارا سامنا ایسے لوگوں سے بھی ہوتا ہے جو منہ میں رام رام بغل میں چھری کا مصداق ہوتے ہیں، آمنے سامنے ان کی باتیں بڑی شیرین ہوتی ہے، مٹھاس کے نئے نئے ذائقے دیکھنے کو ملتے ہیں، بندہ سوچتا ہے کہ یہ بولتا رہے اور میں سنتا رہوں، ان شیرین مزاج لوگوں کا ایک دوسرا رخ ہماری نظروں سے اوجھل ہوتا ہے، جس سے ہم بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں، ہمیں لگتا ہے کہ ہم یک جان ہیں، ہمارا ایک دوسرے کے بغیر گزارہ مشکل ہے، کسی بھی چیلنج کو ہم اکیلے بالکل بھی عبور نہیں کرسکیں گے جب تک کہ ہمارے دوست اس کوشش میں شامل نہ ہو۔ لیکن! یقین جانیے جس طرح ہم ان لوگوں پر اعتماد کرتے ہیں اسی اعتماد کے نتیجے میں ہم اپنے لیے دکھ درد پال رہے ہوتے ہیں اور ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی، جہاں بھی ان کا دوسرا چہرہ عیاں ہوتا ہے وہی پر ہمارے خوابوں کے محل زمین بوس ہو جاتے ہیں، یہ ایسا مرحلہ ہوتا ہے کہ ہم دوستی کی وجہ سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے اور اپنے جذبات کو اندر ہی اندر دبانے کی وجہ سے روز مرتے ہیں، دل سے بہتے ان آنسو کا نہ کوئی مداوا ہوتا ہے اور نہ کوئی پوچھنے والا ، ہر لمحہ ایک ہی خیال ستاتا ہے کہ کا...

اعتراض، اشکال، مشورہ، رائے

تصویر
     اعتراض، اشکال، مشورہ، رائے ۔۔۔۔۔۔۔  فیس بُک پہ مختلف پوسٹوں کے کامنٹس پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ہماری اکثریت ان الفاظ کی حقیقت سے ناواقف ہیں اس لیے جہاں دیکھو بحث مباحثہ کا بازار گرم ہے، حالانکہ اگر ان الفاظ کے معانی و مطالب جان کر بندہ سوچ لے تو کسی بھی بحث ومباحثہ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔              کسی بھی تحریر سے اتفاق نہ کرنے کی صورت میں جب ہم کمنٹ لکھتے ہیں تو اس کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں یا تو یہ کہ ہمیں اس تحریر میں کوئی بات غلط نظر آئی اور ہم نے لکھا کہ یہ بات ٹھیک نہیں ہے، اس کے لیے اگر الفاظ کا استعمال شائستہ ہو تو بات آگے نہیں بڑھتی بلکہ لکھنے والا یا تو اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتا اور یا وضاحت کہ میرا مقصد وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں بلکہ یہ ہے۔ اسے اعتراض کہا جاتا ہے اور اس کی وضاحت لکھنے والے پر لازم ہوتی ہے۔            دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اس تحریر میں کوئی بات سمجھ نہ آئے یا اسے پڑھنے کے بعد ہمارے ذہن میں کوئی سوال آئے تو ہم کمنٹ کر لیتے ہیں، یہ کمنٹ اشکال ہوتا ہے، ہمیں شبہ ہو...

صحافت کورس کا ڈیمو

تصویر
 سر ! صحافت کورس کا ڈیمو بتائیں  لیجیے جناب       ہمارے صحافت کورس کے کل 24 اسباق ہیں۔ آٹھ اسباق پر مشتمل پہلا لیول ہے جس میں پہلا سبق ابتدائی باتوں پر مشتمل ہے جس میں صحافت سیکھنے کا مقصد سمجھایا گیا ہے۔ دوسرا سبق وقت کی قدر و قیمت کے حوالے سے ہے اس کے ضمن میں بڑے بڑے لوگوں نے وقت کی قدر کیسے کی اور وہ مستقبل میں کیا بن گئے اس پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ تیسرے سبق میں فن صحافت کے حوالے سے تفصیلی ہے کہ صحافت کیا ہے؟ اس کی اہمیت کیا ہے؟ اس کے مختلف شعبے کیا کیا ہیں؟ اگلے پانچ اسباق میں میڈیا کی تفصیل ہے کہ میڈیا کیا ہے؟ اس کی اقسام کیا کیا ہیں؟ پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے بارے میں الگ الگ اسباق میں تفصیل سمجھایا گیا ہے۔ اس میں اخبارات اور رسائل و جرائد سے لے کر ٹی وی چینلز اور مختلف سوشل میڈیا سائیٹس کا تفصیلی تعارف کرایا گیا۔ اخبارات رسائل و جرائد اور ٹی وی کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ اخبار اور خبرنامہ کیسے بنتا ہے اس کی تفصیل سمجھائی گئی ہے۔           دوسرے لیول میں فنِّ تحریر کے حوالے سے تفصیل ہے۔ سب سے پہلے فنونِ لطیفہ کا تعارف ہے...

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 شروع اللہ کے نام سے جو مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے