اعتراض، اشکال، مشورہ، رائے
اعتراض، اشکال، مشورہ، رائے
۔۔۔۔۔۔۔
فیس بُک پہ مختلف پوسٹوں کے کامنٹس پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ہماری اکثریت ان الفاظ کی حقیقت سے ناواقف ہیں اس لیے جہاں دیکھو بحث مباحثہ کا بازار گرم ہے، حالانکہ اگر ان الفاظ کے معانی و مطالب جان کر بندہ سوچ لے تو کسی بھی بحث ومباحثہ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
کسی بھی تحریر سے اتفاق نہ کرنے کی صورت میں جب ہم کمنٹ لکھتے ہیں تو اس کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں یا تو یہ کہ ہمیں اس تحریر میں کوئی بات غلط نظر آئی اور ہم نے لکھا کہ یہ بات ٹھیک نہیں ہے، اس کے لیے اگر الفاظ کا استعمال شائستہ ہو تو بات آگے نہیں بڑھتی بلکہ لکھنے والا یا تو اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتا اور یا وضاحت کہ میرا مقصد وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں بلکہ یہ ہے۔ اسے اعتراض کہا جاتا ہے اور اس کی وضاحت لکھنے والے پر لازم ہوتی ہے۔
دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اس تحریر میں کوئی بات سمجھ نہ آئے یا اسے پڑھنے کے بعد ہمارے ذہن میں کوئی سوال آئے تو ہم کمنٹ کر لیتے ہیں، یہ کمنٹ اشکال ہوتا ہے، ہمیں شبہ ہوجاتا ہے کہ یہ بات جو لکھی گئی ہے مجھے سمجھ نہیں آئی یا واقعی ایسی ہی ہے جیسا کہ میں نے سمجھا؟ اس کمنٹ کا جواب لکھنے والے پر لازم نہیں ہوتا، کیوں کہ یہ اشکال ہے اور اشکال کا جواب دینا ضروری نہیں ہے۔
تیسری صورت یہ پیش آتی ہے کہ ہم تحریر ابتداء سے آخر تک پڑھ لیتے ہیں لیکن تشنگی باقی رہتی ہے، اپنی طبیعت کو سیر کرنے کے لیے کمنٹ داغ دیتے ہیں کہ ماشاءاللہ آپ نے بہت اچھا لکھا ہے لیکن۔۔۔۔۔الخ اور پھر اپنی طرف سے اس تحریر میں کچھ اضافی باتیں جمع کرلیتے ہیں، یہ ایک قسم کا مشورہ ہوتا ہے کہ اس تحریر میں اگر یہ باتیں بھی ہوتی تو نور علی نور ہوتا۔ اسے قبول کرنا نہ کرنا لکھنے والے کی صواب دید پر ہے۔
چوتھی صورت جو پیش آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم کسی ایسی موضوع پہ کوئی تحریر پڑھ لیتے ہیں جس پہ ہمارا کافی مطالعہ پہلے سے ہوتا ہے، پڑھنے کے بعد ہم اس موضوع کے حوالے سے کمنٹ کر لیتے ہیں جو محض اپنے خیالات اور اپنا مطالعہ ہوتا ہے، اسے "رائے" کہا جاتا ہے، اس رائے سے اتفاق اور اختلاف لکھنے والے کا حق ہے چاہے تو قبول کریں چاہے تو مھذب انداز میں رد کریں۔ یاد رہے رائے تب دی جاتی ہے جب متعلقہ موضوع پر مطالعہ ہو ورنہ اسے رائے نہیں مانا جاتا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں